بنگلورو:4/اپریل(ایس او نیوز) ڈی وائی ایس پی ایم کے گنپتی کی خود کشی کے معاملے میں سی آئی ڈی کی طرف سے جو رپورٹ حکومت کو پیش کی گئی ہے، اس پر اعتراضات داخل کرنے کیلئے مرکیرہ کے پرنسپل سیول جج نے گنپتی کے خاندان والوں کو موقع فراہم کیا ہے۔ 7، جون 2016کو ڈی وائی ایس پی گنپتی کی خود کشی کے معاملے میں ان کے خاندان والوں نے سی آئی ڈی رپورٹ پر اعتراض داخل کرنے اور انہیں بطور فریادی شامل کرنے کی پہل کی تھی، 7/ مارچ 2017 کو اس مقدمہ پر بحث ہوئی اور عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔اس کیس کی جج انا پورنیشوری نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سی آئی ڈی نے اس کیس میں جو رپورٹ درج کی ہے اس سلسلے میں گنپتی کے اہل خانہ 10 اپریل تک عدالت میں اپنی طرف سے اعتراضات داخل کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈی وائی ایس پی گنپتی کی خود کشی کے معاملہ میں کے جے جارج کو ریاستی وزارت داخلہ سے استعفیٰ دینا پڑاتھا۔گنپتی نے مرکیرہ کے ایک لاڈج میں خود کشی سے پہلے جارج اور وزیر داخلہ کے مشیر کیمپیا پر الزام لگایا تھا کہ ان دونوں کی ہراسانی کے نتیجہ میں وہ خود کشی پر مجبور ہورہے ہیں، اس معاملے کی جانچ کرتے ہوئے سی آئی ڈی نے جارج اور دیگر پولیس افسران کو کلین چٹ دی اور اس سلسلے میں بی رپورٹ داخل کردی۔ اس معاملے میں فریادی سمجھے جانے والے گنپتی کے فرزند نیہل گنپتی نے مقدمہ کی سرگرمیوں میں الجھنے کے سبب تعلیمی سرگرمیوں پر اثر پڑنے کی دہائی دیتے ہوئے خود کو مقدمہ سے دور کرلیاتھا، تاہم گنپتی کے ماں باپ، بھائی اور بہن نے دوبارہ عدالت سے گذارش کی کہ انہیں اس پر اعتراض داخل کرنے کی اجازت دی جائے، اس گذارش کو منظور کرتے ہوئے جج انا پورنیشوری نے آج ان کے خاندان والوں کو اعتراضات درج کرنے کا موقع فراہم کیا۔ عدالت کے فیصلے کے بعداخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے گنپتی کے بھائی ماچیا نے کہا کہ عدالت کے اس فیصلے سے اب انہیں انصاف ملنے کی قوی امید ہے۔